اصل بولی گئی وحی سنیے:

ڈاؤن لوڈ (ڈاؤن لوڈ کے لیے دائیں کلک کریں)

زمین پر روح کا سفر

جیسا موصول ہوا
بتاریخ October 25, 2008
بمقام Boulder, Colorado

آپ وقت اور مکان کے پار سفر کر رہے ہیں، اپنے قدیم گھر کی جانب واپسی کے ایک طویل سفر میں مصروف۔ اِس زندگی میں اور اِس کے بعد بھی یہ سفر جاری رہتا ہے۔ یہ ایسا سفر نہیں جو آپ صرف اپنے لیے کرتے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو آپ اُن سب کے لیے کرتے ہیں جن کا تمام زندگی کے خالق سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ یہ جدائی اور واپسی کا سفر ہے۔ یہ آپ کے مقصد اور آپ کی منزل کے ایک عظیم تر تجربے کی جانب سفر ہے۔

یہ سفر اُس سے بہت مختلف ہے جو لوگ تصور کرتے ہیں، کیونکہ تخیل اِتنی بڑی حقیقت کو سما نہیں سکتا۔ الفاظ، خیالات کی طرح، چیزوں کو حد اور شکل دیتے ہیں، مگر وہ عظیم تر حقیقتوں کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ اِس کے لیے عقیدت اور ہم آہنگی درکار ہے تاکہ سچائی کو ایک بڑی سطح پر محسوس کیا جا سکے۔ خیالات اور عقائد چھوٹی چیزوں کے لیے کافی ہیں۔ مگر ایک عظیم تر حقیقت — وقت اور مکان کے پار آپ کے سفر کی حقیقت — اُس سے پرے ہے جس کا تصور اِس وقت آپ کا تخیل یا آپ کی عقل کر سکتی ہے۔

یہاں آپ صرف تمثیلیں دے سکتے ہیں۔ مگر تمثیلیں بھی زندگی کے اُس عظیم تر منظر کو نہیں سما سکتیں جس کا آپ حصہ ہیں، اور نہ ہی اِس زندگی میں اور اِس کے بعد آپ کے سفر کے معنی کو۔ دل سمجھ سکتا ہے، مگر ذہن اپنے خیالات کی سطح پر اِتنی بڑی حقیقت کو نہیں سما سکتا۔ اِسی لیے یہ حقیقت اُس سے بہت مختلف ہے جو اِتنے سارے لوگ سوچتے اور مانتے ہیں۔

جب خدا سے جدائی شروع ہوئی تو آپ مکمل طور پر جدا نہ ہو سکے، کیونکہ تخلیق کا ایک حصہ آپ کے اندر ہے اور آپ کے اندر ہی رہا ہے، اور آپ اُس سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ گویا خدا بھی ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے۔ آپ جہاں بھی جائیں، خدا وہاں ہے، آپ کے اندر بھی اور آپ کے چاروں طرف بھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ”میں خدا پر ایمان نہیں لانا چاہتا۔ میں مذہب سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتا۔“ ٹھیک ہے، مگر خدا پھر بھی آپ کے اندر ہے، اور خدا آپ کے چاروں طرف ہے۔

آپ سوچ سکتے ہیں کہ خدا کا سارا تعلق اِس اُستاد سے ہے — میرے نجات دہندہ سے، میرے ولی سے، میرے نبی سے — مگر خدا پھر بھی آپ کے اندر ہے اور آپ کے چاروں طرف ہے۔

آپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ دنیا کے واقعات یا آپ کی زندگی کے واقعات کا ذمہ دار خدا ہے، مگر خدا پھر بھی آپ کے اندر ہے اور آپ کے چاروں طرف ہے۔

ذہن سوچتا ہے، ذہن دوسروں کو نصیحت کرتا ہے، ذہن اپنے تجربے اور اپنی سمجھ کی حد کے مطابق عظیم سچائیوں کا اعلان کرتا ہے، مگر حقیقت اِس سے پرے ہے۔

آپ اپنے ہی ذہن میں جدا ہیں، اور عقل اِسی جدائی کی پیداوار ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہی آپ ہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہی آپ کی روح اور آپ کی ہستی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اُس کے خیالات اُس کی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اُسے اُن دوسرے ذہنوں سے ممتاز کرتے ہیں جن کے خیالات مختلف ہیں۔ آپ کا ذہن سمجھتا ہے کہ اُس کی حقیقت اُس کے خیالات کی حقیقت ہے اور لوگوں، جگہوں اور چیزوں سے اُس کے تعلق کی حقیقت ہے۔ مگر آپ حقیقت میں جو ہیں وہ اِس سب سے پرے ہے۔

چونکہ خدا آپ کے اندر باقی رہا ہے، اِس لیے خدا کا روحانی علم بھی آپ کے اندر باقی رہا ہے۔ اور یہ روحانی علم اب یہاں ہے تاکہ آپ کی رہنمائی کرے، آپ کی حفاظت کرے اور آپ کو زندگی کے ایک عظیم تر تجربے تک لے جائے، تاکہ آپ کے اندر کی جدائی مٹ سکے۔ یہ مقصد اور یہ منزل جو روحانی علم آپ کے لیے تھامے ہوئے ہے، یہ ہے کہ آپ ایک ضرورت مند دنیا میں اپنا حصہ ڈالیں — اُنہی حالات کے اندر جو آج آپ دیکھ رہے ہیں اور جو مستقبل میں پیدا ہوں گے۔

آپ کے اندر موجود روحانی علم کے نقطۂ نظر سے، آپ یہاں ایک مشن پر ہیں۔ یہاں ہونے کا آپ کا ایک عظیم تر مقصد ہے۔ آپ محض ایک جانور نہیں جو زندہ رہنے کی، مطمئن ہونے کی، خوش ہونے کی، محفوظ ہونے کی کوشش کر رہا ہو۔ آپ جنت سے آئی ہوئی ایک ہستی ہیں، جو جدائی کا حصہ ہے اور جو اب یہاں اپنی خود دریافت اور نجات کی طرف کام کرنے کے لیے موجود ہے۔

جب آپ کا ذہن اپنے آپ کو سمجھنے اور خود کو لوگوں، جگہوں اور چیزوں سے جوڑنے کی کوشش جاری رکھتا ہے، اُس وقت آپ کے اندر کا روحانی علم حرکت میں ہوتا ہے۔ وہ آپ کو مشورہ دے رہا ہے، وہ آپ کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اگر آپ اُسے سن سکیں تو آپ اُس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ مگر اگر آپ اُسے نہ سن سکیں تو آپ اُس کی دانش، اُس کی برکت اور اُس کی قوت وصول نہیں کر سکتے۔

اِس زندگی میں آپ کی کامیابی آپ کو جنت یا دوزخ میں نہیں پھینکتی، بلکہ آپ کو آپ کے سفر کے اگلے مرحلے پر کھڑا کر دیتی ہے۔ اگر آپ نے دانش، شفقت اور کچھ خود آگہی دوبارہ حاصل کر لی، تو آپ خدمت کی ایک عظیم تر سطح کے لیے تیار ہوں گے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی ایک زندگی مادی حقیقت میں اُن کا سارا وجود ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مادی حقیقت اُن کی اپنی زندگی کے دوران ہی اپنے آخری انجام کو پہنچ جائے گی۔ یہ خیالات آپ کے تخیل کی حدود کا نتیجہ ہیں۔ یہ تصور کرنا کہ آپ کی زندگی اِس کے بعد زندگی کے دوسرے میدانوں اور خدمت کی دوسری سطحوں تک جاری رہتی ہے، بیشتر لوگوں کے لیے سوچنا بھی بہت زیادہ ہے۔ اُن میں اِس سطح پر سوچنے کی گنجائش نہیں۔

چنانچہ روزِ حساب کا خیال گھڑ لیا جاتا ہے۔ مگر خدا آپ کا فیصلہ کیوں کرے گا جب خدا بالکل جانتا ہے کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ کیوں کر رہے ہیں، اور جب خدا سمجھتا ہے کہ دنیا اِتنی شدید مشکل اور ترغیب کی جگہ ہے کہ یہاں کسی فرد کی رہنمائی کے لیے روحانی علم نہ ہو تو وہ یقیناً غلطی میں پڑ جائے گا، کبھی کبھی سنگین غلطی میں؟

خدا آپ کو ایسی حالت میں جینے کی سزا نہیں دے گا۔ خدا آپ کو پکارے گا کہ آپ اپنے اندر کے روحانی علم کی طرف آئیں، تاکہ آپ کے پاس خدا کی قوت اور موجودگی ہو جو آپ کی رہنمائی کرے، آپ کی حفاظت کرے اور آپ کو آگے لے جائے۔

تو پھر کوئی روزِ حساب نہیں ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو لوگ گھڑتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ انصاف جنت میں ہو، جہاں وہ زمین پر نہیں ہوتا، اور وہ بھی اُن کے اپنے تصورات کے مطابق کہ انصاف کیسا ہونا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بدکار سزا پائیں، چاہے وہ خود اُن لوگوں کو سزا نہ دے سکیں جنہیں وہ غلطی پر سمجھتے ہیں۔ یہ محض ایک عکس ہے جو وہ باہر ڈالتے ہیں۔

ایک غضبناک خدا کا خیال زمانوں سے بہت سی روایتوں میں فروغ دیا گیا ہے تاکہ عقیدے کی وفاداری زبردستی حاصل کی جا سکے، تاکہ لوگوں کو ڈرا کر کسی خاص مذہبی خیال یا عقیدے پر ایمان لانے پر مجبور کیا جائے۔ لوگ خدا کی عبادت کرتے ہیں، اور خدا کا اُن کا سارا تصور ایک قسم کی محکومانہ ذہنیت پر مبنی ہے جہاں آپ کو خدا کو خوش کرنا پڑتا ہے ورنہ خدا آپ کو سزا دے گا۔ خدا آپ کی فصلیں تباہ کر دے گا۔ خدا وبا لائے گا۔ خدا تباہ کن موسم لائے گا۔ اور یوں، وقت کے ساتھ ساتھ، لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اُنہیں خدا کو خوش کرنا ہوگا ورنہ اُنہیں یہیں زمین پر خوفناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مگر سچ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی حقیقت میں داخل ہوئے ہیں جو اپنی فطرت ہی سے نہایت مشکل اور پیچیدہ ہے، ایک ایسی حقیقت جو غیر متوقع ہے اور جو اگرچہ بنیادی سانچوں پر چلتی ہے، پھر بھی خاصی بے ترتیب ہے۔

یہ وہ مادی کائنات ہے جو جدا ہو جانے والوں کے رہنے کے لیے، ایک جدا حقیقت میں، بنائی گئی ہے۔ یہ حیرت انگیز بھی ہے اور ہولناک بھی، خوبصورت بھی اور خوفناک بھی۔ یہ کشش رکھتی ہے اور، بعض صورتوں میں، نفرت انگیز بھی ہے۔ یہ آپ کے اُس قدیم گھر سے اِتنی مختلف ہے جہاں سے آپ آئے ہیں اور جہاں آپ بالآخر لوٹیں گے۔ اور پھر بھی یہ ایک ایسی جگہ ہے جو حصہ ڈالنے کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ عمل کی جگہ ہے۔ یہ دینے کی جگہ ہے۔ اِسی جگہ سے روح کو اب سفر کرنا ہے۔

آپ دنیا میں ایک عظیم تر مقصد کے لیے ہیں۔ یہ آپ نے اپنے لیے خود نہیں گھڑا۔ آپ اِس مقصد کو بدل نہیں سکتے، مگر یہ کیسے اور آیا اِسے محسوس کیا جائے گا، اِس کا انحصار وقت کے واقعات پر اور اِس بارے میں آپ کے اپنے فیصلوں پر ہے۔ چنانچہ جہاں آپ کا مقصد پہلے سے طے شدہ ہے، وہاں آپ کی زندگی کے واقعات طے شدہ نہیں۔ وجود کی اِس سطح پر اتفاق ایک بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے، اور آپ کے فیصلوں کی اہمیت بھی ایک بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔

کچھ لوگ سوچنا چاہتے ہیں کہ خدا زندگی کے تمام واقعات کو کنٹرول کر رہا ہے، مگر یہ بالکل درست نہیں۔ خدا نے اُن ارضیاتی اور حیاتیاتی قوتوں کو حرکت دی ہے جنہوں نے زندگی کے ارتقا کو شکل دی۔ مگر یہ قوتیں خود چلتی رہتی ہیں اور خدا کی مداخلت کی محتاج نہیں۔ چنانچہ اگر زلزلہ آتا ہے تو یہ ارضیاتی عمل کا حصہ ہے۔ اگر قحط اور وبا پھیلتی ہے تو یہ زیادہ تر اُن قوتوں کا نتیجہ ہے جو آپ کے قابو سے باہر ہیں۔

خدا آپ کو سزا نہیں دے رہا۔ مگر یہ وہ حقیقت ہے جہاں آپ کو انتخاب کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ خدا سے دوبارہ ملاپ چنتے ہیں یا خدا سے جدائی۔ آپ یہ انتخاب ہر روز کرتے ہیں۔ آپ یہ انتخاب اُس میں کرتے ہیں جو آپ سوچنے کے لیے چنتے ہیں، جس پر ایمان لانے کے لیے چنتے ہیں، اور جس طرح آپ زندگی کی مشکلوں اور فیصلوں کا جواب دینے کے لیے چنتے ہیں۔

آپ کا ذہن تنہائی میں بنا ہے، اِس لیے وہ اپنے آپ کو ایک واحد وجود سمجھتا ہے، ایک ایسا وجود جو دوسرے وجودوں سے الگ ہے۔ وہ خود کو ممتاز کرتا ہے اور جسم کو خود کو ممتاز کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جدائی کی پیداوار ہے، اور وہ جدائی کو مضبوط کرتا ہے۔ مگر آپ کے اندر ایک گہرا روحانی علم بھی ہے، ایک گہرا روحانی علم جو خدا نے وہاں رکھا ہے۔ اُسے بہکایا نہیں جا سکتا۔ اُسے پھسلایا نہیں جا سکتا۔ اُسے اِس بات پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی بنیادی فطرت کے خلاف کوئی کام کرے۔

گویا آپ کے ذہن میں دو آوازیں ہیں۔ شاید دو سے زیادہ آوازیں ہوں، مگر وہ سب بالآخر یا تو جدائی کی آواز ہیں یا دوبارہ ملاپ کی آواز۔ مگر دوبارہ ملاپ کی آواز آپ کے ذہن کی طرح نہیں سوچتی۔ وہ سوچ بچار نہیں کرتی۔ وہ قیاس نہیں کرتی۔ وہ فیصلہ اور مذمت نہیں کرتی۔ وہ اپنی حقیقت کو خیالات یا تصورات یا وفاداریوں پر قائم نہیں کرتی۔

آپ کا سطحی ذہن — وہ ذہن جسے ثقافت نے، آپ کے خاندان نے، روایت نے اور بدلتی ہوئی دنیا کے بارے میں آپ کے ردِعمل نے شکل دی ہے — اِس ذہن کو آپ کے اندر کے ایک عظیم تر ذہن کی خدمت کرنی ہوگی، اگر اُسے نجات پانی ہے اور اگر اُس کی عظیم صلاحیتوں کو آپ کے اور دوسروں کے فائدے کے لیے کام میں لانا ہے۔

اِسی لیے روحانی علم آپ کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ وہ آپ کی رہنمائی کرے۔ کیونکہ خدا جانتا ہے کہ اِس روحانی علم کے بغیر آپ دنیا میں گم ہو جاتے۔ آپ غلطی میں پڑ جاتے، اور آپ تصادم، مشکل اور خود انکاری کی زندگی گزارتے۔

تو پھر آپ کا سفر یہ ہے کہ آپ روحانی علم کی قوت اور موجودگی کی طرف لوٹیں۔ یا، دوسرے لفظوں میں، یہ کہ آپ اپنے گہرے ضمیر کے سچے ہو جائیں، اپنے آپ کے سچے، اور اُس کے سچے جو آپ سب سے گہرائی میں محسوس کرتے اور جانتے ہیں۔ اِسے مذہبی اصطلاحوں میں بیان کیا جا سکتا ہے یا مذہبی اصطلاحوں سے باہر، مگر بات ایک ہی ہے۔

روحانی علم کے ساتھ آپ دریافت کرتے ہیں کہ آپ یہاں ایک عظیم تر مقصد کے لیے ہیں، اور آپ دیکھتے ہیں کہ کچھ راہوں میں آپ کی رہنمائی ہو رہی ہے اور کچھ راہوں میں آپ کو روکا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے آپ کا اعتماد بڑھتا ہے، آپ اِس کی پیروی کرنے اور اِس کی عظیم برکتیں اور زندگی کے بارے میں اِس کے عظیم سبق وصول کرنے کے قابل ہوتے جاتے ہیں۔ آپ یہ اپنی یا دوسروں کی مذمت کے بغیر کرتے ہیں۔ آپ یہ عاجزی کے ساتھ کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ ایک عظیم تر قوت کی پیروی کر رہے ہیں، ایک ایسی قوت جو عقل کی رسائی اور دائرے سے پرے ہے۔ آپ خود کو یہاں ایک طالبِ علم کے طور پر رکھتے ہیں، ایسا طالبِ علم جو بہت کم فرض کرتا ہے اور ہر اُس چیز کو سیکھنے کے لیے کھلا ہے جو سیکھنی ضروری ہے۔

یہاں آپ جوابوں کے مطابق نہیں جیتے، بلکہ سوالوں کے ساتھ جیتے ہیں۔ عقل ایسا نہیں کر سکتی، کیونکہ وہ بہت زیادہ بے یقین ہے۔ اُسے جواب چاہییں، اِس لیے وہ اپنے جواب خود گھڑ لیتی ہے۔ وہ بہت بے یقین ہے۔ وہ اِتنی کمزور ہے کہ سوالوں کے ساتھ جی نہیں سکتی۔ اِس کے لیے آپ کے اندر ایک عظیم تر طاقت درکار ہے۔ آپ اُن سوالوں کے ساتھ جیتے ہیں جن کا جواب شاید آپ کبھی نہ دے سکیں، مگر آپ اُن کے ساتھ جیتے ہیں کیونکہ وہ آپ کا ذہن کھولتے ہیں اور آپ کے اندر روحانی علم سے ایک گہرا تعلق ابھارتے ہیں۔

روحانی علم ہی جواب ہے، کیونکہ جیسے جیسے آپ روحانی علم کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں، آپ کے پاس زیادہ یقین ہوتا ہے، زیادہ اعتماد ہوتا ہے، اور زیادہ طاقت اور صلاحیت ہوتی ہے۔ آپ خطرے اور بے یقینی کا سامنا غصے اور مذمت کے بغیر کر سکتے ہیں۔ آپ اُن سوالوں کا سامنا جن کے جواب آپ کے پاس نہیں، جستجو، کشادگی اور عاجزی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس یہ قوت ہوتی ہے کہ آپ اپنے خود تباہ کن رجحانات کو روک سکیں اور اپنے ذہن کے اُن خیالات کو، جو واقعی فائدہ مند ہیں، اُن تمام خیالات سے الگ کر سکیں جو آپ نے اپنے گرد کے ماحول سے جذب کیے ہیں۔

اگر آپ اِس زندگی میں روحانی علم کے ساتھ مضبوط ہو جائیں، تو آپ کو اِس دنیا سے پرے خدمت کی ایک عظیم تر سطح دی جائے گی۔ یہ خدمت اِسی دنیا میں ہو سکتی ہے یا دوسری دنیاؤں میں۔ یہ ایک ماورائی اُستاد کے طور پر خدمت ہو سکتی ہے، اَن دیکھی ہستیوں میں سے ایک، جو اُن کی رہنمائی کرتے ہیں جو اب بھی جسمانی صورت میں جی رہے ہیں۔ یا آپ ایک عظیم اُستاد کے طور پر ظاہری دنیا میں لوٹ سکتے ہیں، ایک ایسے شخص کے طور پر جس میں کسی اور وجود میں دانش، رہنمائی اور فیصلہ پھیلانے کی بڑی صلاحیت ہو۔

یہاں کوئی روزِ حساب نہیں۔ یہاں صرف پیش رفت ہے۔ آپ غصے، رنجش، خود مذمت اور دوسروں کی مذمت سے بھرے ہوئے اپنی آسمانی حالت کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ آپ بے فیصلگی اور تذبذب سے بھرے ہوئے، عادتوں اور خود تباہ کن رجحانات کے ساتھ، اپنی آسمانی حالت کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ آپ ذہن کی اِس حالت میں سیدھی سی بات ہے کہ لوٹ ہی نہیں سکتے۔

یہ سمجھنا کہ یہ سب کچھ ایک ہی زندگی میں حل ہو سکتا ہے، مسئلے کو کم آنکنا ہے۔ اگر آپ یہ سب کچھ ایک ہی زندگی میں حل کر بھی لیں، تو آپ کی کامیابی اِتنی عظیم ہوگی کہ خدا آپ کو اُن دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہے گا جو ابھی تک اپنی جدائی کی حالت میں گم ہیں۔ چنانچہ اِن حالات میں بھی آپ جنت کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔

خدا آپ سے زیادہ سے زیادہ کام لے گا اور مادی حقیقت میں جیتے ہوئے آپ جو بھی دانش حاصل کر سکیں، اُس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے گا۔ یہ سزا نہیں، کیونکہ جو چیز جدائی سے پیدا ہونے والے تمام رجحانات، یادوں اور تکلیف کو کھولتی ہے وہ حصہ ڈالنا ہے، وہ خدمت ہے۔ خدا محض یہ سب چیزیں آپ کے اندر مٹا نہیں دیتا، کیونکہ خدا نے اُنہیں پیدا نہیں کیا۔ اُنہیں آپ کے اندر، آپ کے ذریعے اور آپ کے وسیلے سے مٹنا ہوگا، زندگی میں ایک مختلف راستہ اختیار کر کے۔

آپ کی غلطیوں کی جگہ خدمت لے لیتی ہے۔ یہ خدمت آپ کے اندر گہرائی سے آتی ہے۔ یہ کوئی منصوبہ نہیں جو آپ اپنے اندر کے احساسِ جرم کو دبانے کے لیے بناتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو آپ کے اندر کے روحانی علم سے پھوٹتی ہے۔ یہ جدائی کی یاد کی جگہ حصہ ڈالنے، رابطے اور دوسروں سے جڑنے کی یاد رکھ دیتی ہے۔ اپنے اندر کے سچے اُستاد کی پیروی کر کے ہی آپ کے پچھلے غلط فیصلے اور ناخوشگوار تجربے مٹ جاتے اور بھلا دیے جاتے ہیں۔

لوگ یہ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ تصور نہیں کر سکتے کہ جنت کیسی ہے۔ جب آپ دنیا میں جی رہے ہوں اور خود کو ایک فرد سمجھ رہے ہوں، تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ جنت کیسی ہے۔ کیونکہ تخیل وہ طریقہ ہے جس سے آپ اپنے خیالات کو شکل دیتے ہیں، اور یہ شکل نہایت محدود اور عارضی ہوتی ہے۔ اِسی لیے آپ دائمی چیزوں کا تصور نہیں کر سکتے۔ آپ امن کا تصور نہیں کر سکتے۔ جو کچھ آپ تصور کرتے ہیں وہ سب اپنی فطرت میں محدود اور عارضی ہے۔

اِس کا آپ کا تجربہ ایک گہری سطح پر ہوتا ہے۔ ذہن صرف اُنہی چیزوں کا تصور کر سکتا ہے جن کے بارے میں وہ سوچ سکتا ہے۔ مگر اگر وہ تخلیق کے بارے میں وقت اور مکان کی نہایت محدود اصطلاحوں کے سوا سوچ ہی نہیں سکتا، تو ظاہر ہے کہ آپ کو اپنی گہری فطرت کا تجربہ اپنی عقل کے دائرے سے پرے ہی کرنا ہوگا۔

آپ کی عقل وہ ذریعہ ہے جس سے آپ جدائی کی جگہ سے کھڑے ہو کر زندگی کو پرکھتے ہیں۔ مگر اگر جدائی حقیقی نہیں اور کبھی مکمل ہو ہی نہیں سکتی، تو آپ کے خیالات لازماً نسبتی ہوں گے۔ شاید آپ چیزوں کی سچائی وقت کے اندر دیکھ سکیں، لمحاتی چیزوں کی۔ آپ مسئلے حل کر سکتے ہیں، کیونکہ عقل اِسی کے لیے ہے۔ وہ اِس زندگی میں آپ کے تجربے کے ایک محدود دائرے کے اندر مسئلے حل کرنے کے لیے ہے۔

یہی عقل کی اصل قدر ہے۔ روحانی علم کی خدمت میں وہ رابطے کا ایک شاندار آلہ ہے۔ وہ اِسی کے لیے ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو اُسے نجات دیتی ہے اور اُسے ایک عظیم تر مقصد اور ایک عظیم تر معنی عطا کرتی ہے۔

زندگی میں آپ کی خوشی روحانی علم سے آپ کے تعلق سے پیدا ہوگی، اور اُس عظیم خدمت سے جو وہ آپ کے ذریعے انجام دے گا، اور اُس نجات سے جو وہ آپ کے ذہن اور آپ کے جذبات کو دے گا۔ آپ آخرکار اپنے اندر ٹھیک محسوس کرنے لگیں گے اور اُن بے چینیوں سے نکل آئیں گے جو پہلے آپ کے ساتھ رہتی تھیں۔ یہ آپ کو اِس بات سے آزاد کرے گا کہ آپ اپنی زندگی لوگوں، چیزوں اور جگہوں کو بے موقع اور وقت سے پہلے دے دیں۔ یہ آپ کو بے فیصلگی، خود شکی اور خود ملامت کی تمام تکلیف سے آزاد کرے گا۔ یہ ایسا آہستہ آہستہ کرے گا، کیونکہ بدلنے میں وقت لگتا ہے، اپنے اندر اپنی وفاداری بدلنے میں — اپنے خیالات اور دوسروں کے خیالات سے ہٹا کر اُس گہری قوت کی طرف جو آپ کے اپنے اندر سے آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ آپ اِس قوت کو دوسروں میں پہچاننے لگتے ہیں اور اپنی زندگی میں اور تمام بنی نوع انسان کی فلاح میں اِس کی مرکزی اہمیت دیکھنے لگتے ہیں۔

آپ کو اِس فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا سے پرے کیا ہے، کیونکہ آپ ابھی اُس موڑ تک نہیں پہنچے۔ آپ کا ذہن اِس دنیا سے پہلے کی اپنی زندگی کا تصور تاریخی اصطلاحوں اور خیالی اصطلاحوں کے سوا نہیں کر سکتا۔ شاید آپ کے پاس اُن چیزوں کی کچھ یادیں ہوں جو پہلے پیش آئیں، اور وہ حقیقی بھی ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ اپنے سیاق سے کٹی ہوئی ہیں، اور آپ اُنہیں پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔

یہی وہ زندگی ہے جس پر آپ کو اپنی توجہ دینی ہے۔ آپ یہاں ایک عظیم تر مقصد کے لیے ہیں۔ صرف آپ کے اندر کا روحانی علم جانتا ہے کہ یہ مقصد کیا ہے اور وہی یہ مقصد آپ کے لیے تھامے ہوئے ہے۔

یہ وہ سفر ہے جو آپ کر رہے ہیں، اور آپ اِسے قدم بہ قدم، مرحلہ وار کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے روحانی علم آپ کے اندر ظاہر ہوتا ہے اور آپ مخصوص معاملوں میں اُس کی پیروی کرنے کے قابل ہوتے ہیں، اُس کا آپ کا تجربہ مضبوط ہوتا جائے گا۔ اور آپ جان لیں گے کہ نجات آپ کے اندر رکھی گئی ہے تاکہ آپ کی رہنمائی کرے، اور یہ کہ نجات محض تصورات پر ایمان لانے یا عقیدے قبول کرنے یا کائنات کی کسی برتر قوت سے عقیدت کے اظہار کی رسمیں نبھانے کا نتیجہ نہیں۔ درحقیقت خدا کے سامنے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اُس عظیم تر مقصد کو دریافت کریں، قبول کریں اور ظاہر کریں جو آپ کو دنیا میں لایا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آپ کو روحانی علم کی پیروی کرنی ہوگی، اور روحانی علم کو پُراسرار رہنے دینا ہوگا، کیونکہ وہ آپ کی عقل کے دائرے سے پرے موجود ہے۔

اِس سے آپ کی زندگی کا ایک بڑا از سرِ نو جائزہ شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ روحانی علم کے ساتھ آپ چیزوں کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں، اور آپ کی قدریں بدلتی ہیں، اور آپ کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ شاید آپ اِس تبدیلی میں سے کچھ پہلے ہی محسوس کر چکے ہوں۔

جب آپ روحانی علم کا تجربہ کرنے لگتے ہیں، تو آپ ہیجان کے بجائے سکون تلاش کرتے ہیں۔ آپ بے معنی گفتگو کے بجائے دوسروں سے سچا میل جول تلاش کرتے ہیں۔ آپ محض کسی دوسرے کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے رشتوں میں اتحاد کا تجربہ تلاش کرتے ہیں۔ آپ اپنے خیالات سے زیادہ اپنی بصیرتوں کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ آپ دیکھنے لگتے ہیں کہ آپ جو ہیں وہ آپ کا ذہن نہیں، اور یہ کہ آپ کا ذہن درحقیقت روح کے لیے، یعنی روحانی علم کے لیے، رابطے کا ایک شاندار آلہ ہے۔ آپ اپنے جسم کو دنیا میں موجود ہونے کی ایک سواری کے طور پر دیکھتے ہیں، ایک ایسی سواری جس کے ذریعے رابطہ بہہ سکتا ہے، جس کے ذریعے حصہ ڈالنا ممکن ہو سکتا ہے، اور جس کے ذریعے اُن دوسروں سے ایک گہرے تعلق کا تجربہ ہو سکتا ہے جو یہاں دنیا میں ہیں۔

آپ دنیا میں ایک سفر پر ہیں۔ آپ کے پاس یہ انتخاب ہے کہ آپ دنیا میں گم ہو جائیں یا دنیا میں ہوتے ہوئے ایک عظیم تر مقصد اور حقیقت کا تجربہ کر سکیں۔ یہ دونوں راستے زندگی کے یکسر مختلف تجربے پیدا کرتے ہیں۔ آپ اپنے چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں کہ جدائی میں جینے کا انتخاب کرنے والے لوگوں کے ذریعے اِس کے نتائج کس ڈرامائی انداز میں سامنے آ رہے ہیں، اور وہ تکلیف، بے یقینی اور تباہ کن فیصلے جو اِس مؤقف کو اختیار کرنے اور اُس پر جمے رہنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

اگر آپ دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ روحانی علم کی پیروی کرنے والے لوگوں کی مثالیں کہیں کم ہیں۔ آپ اُن کی زندگیوں میں روحانی علم کے آثار دیکھیں گے، اور یہ آپ کو تحریک دے گا اور یاد دلائے گا کہ روحانی علم آپ کے اندر بھی بستا ہے، اور یہ کہ آپ جہاں بھی جائیں اور جو کچھ بھی کریں، خدا وہاں ہے۔

آپ کے پاس ایک گہرا ضمیر ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ کب آپ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں اور کب آپ کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جو آپ کے لیے اچھا نہیں۔ وقت کے ساتھ آپ سیکھیں گے کہ جب آپ دوسروں میں غلطی دیکھتے ہیں تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ روحانی علم کے ساتھ نہیں ہیں، اور آپ اِسے روحانی علم سے اپنی وابستگی مضبوط کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اُس شخص یا اُس صورتِ حال کی مذمت کرنے کے بجائے آپ روحانی علم کی عظیم ضرورت دیکھیں گے۔

روحانی علم کے ساتھ کوئی جنگ اور تصادم نہیں ہوگا۔ لوگوں کا اختلاف ہو سکتا ہے کہ کام کیسے کیے جائیں، مگر وہ اِس بات پر ہم آہنگ ہوں گے کہ کیا کیا جانا چاہیے، کیا حل کیا جانا چاہیے۔ روحانی علم لوگوں کے اندر بھی متحد ہے اور لوگوں کے درمیان بھی۔ وہ دنیا میں عظیم صلح کرانے والا ہے۔ وہ ایسی قوت ہے جو مذمت کرنے، حملہ کرنے، خود غرضی سے کام لینے اور اپنے فائدے کے لیے دوسروں پر غالب آنے کی کوشش کے رجحانات پر غالب آ جاتی ہے۔

گویا آپ کے اندر ایک دوسرے سے برسرِ پیکار قوتیں ہیں۔ وہ یکسر مختلف ہیں۔ اُن کی سمتیں یکسر مختلف ہیں۔ وہ زندگی کا یکسر مختلف تجربہ اور فہم پیدا کرتی ہیں۔ وہ آپ کو مختلف سمتوں میں لے جا رہی ہیں۔

چنانچہ ہر روز آپ چنتے ہیں کہ کس کی پیروی کریں، کس کا احترام کریں، اور اپنے اندر اور دوسروں میں کیا تلاش کریں۔ جب یہ ایک شعوری عمل بن جاتا ہے، تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے پاس یہ طے کرنے کا کہیں زیادہ اختیار اور صلاحیت ہے کہ آپ کا تجربہ کس قسم کا ہوگا۔

اگر آپ روحانی علم کے ساتھ چلیں گے تو آپ اچھا محسوس کریں گے، اور آپ اپنے آپ سے ہم آہنگ ہوں گے۔ اگر آپ روحانی علم کے خلاف جائیں گے تو آپ بے چین ہوں گے، گویا کوئی خیانت ہو گئی ہو۔

آپ بہت سی مختلف وجوہات سے روحانی علم کے خلاف جا سکتے ہیں: دولت کے لیے؛ حسن پانے کے لیے؛ لوگ، جگہیں اور چیزیں پانے کے لیے۔ مگر اپنے اندر آپ اِس کے بارے میں اچھا محسوس نہیں کریں گے۔ اگر آپ غصہ اور دوسروں کی مذمت چنیں گے، تو آپ اپنے اندر بہت برا محسوس کریں گے۔ آپ خود کو حق بجانب سمجھ سکتے ہیں، آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ ٹھیک ہیں، مگر آپ اپنے اندر برا محسوس کریں گے۔ آپ کے گہرے ضمیر کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور آپ اپنے اندر برا محسوس کریں گے۔

آپ اپنی حقیقت خود بنانے اور اپنی زندگی کو وہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ اُسے ہونا چاہیے یا جو آپ چاہتے ہیں کہ وہ ہو، مگر آپ اپنے گہرے ضمیر کی خلاف ورزی اپنے اندر تکلیف پیدا کیے بغیر نہیں کر سکتے۔

یہاں جو اچھا ہے اور جو برا ہے وہ محض معلوم ہوتا ہے۔ مسئلوں اور الجھنوں کو حل کرنے کی پیچیدگیوں میں یہ بنیادی ضمیر دھندلا سکتا ہے، اور یہ پہچاننا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے کہ درست راستہ کون سا ہے۔ یہاں عقل اپنی اصل خدمت میں آتی ہے۔ اُسے یہ طے کرنا ہے کہ چیزیں کیسے انجام دی جائیں۔ وہ تفصیلوں سے نمٹتی ہے، جزئیات سے نمٹتی ہے، مگر اصل سمت روحانی علم کو ہی متعین کرنی ہے۔

آپ کے اندر ایک اخلاقی اور کرداری بنیاد ہے جو خدا نے بنائی ہے۔ چاہے وہ آپ کی ثقافتی قدروں اور آپ کی سماجی تربیت سے ٹکراتی ہو، اُسے بدلا نہیں جا سکتا۔ آپ کی ثقافت آپ کو سکھا سکتی ہے کہ دوسروں کی مذمت کریں اور کچھ رویوں پر دوسروں کو سزا دیں، یا دوسرے گروہوں، دوسرے قبیلوں یا دوسری قوموں پر بھروسہ نہ کریں۔ مگر یہ آپ کے گہرے ضمیر کی خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ آپ کے پاس ایک سماجی ضمیر ہے جو آپ کی سماجی تربیت ہے، مگر پھر آپ کے پاس ایک گہرا ضمیر بھی ہے جو خدا نے بنایا ہے۔

یہ آپ کی زندگی کی عظیم برکت ہے کہ جدائی کبھی مکمل ہو ہی نہ سکی، اور یہ کہ آپ کے اندر وہ باقی ہے جو خدا نے تخلیق کیا۔ یہی وہ چیز ہے جو آپ کو بچائے گی۔ یہی وہ چیز ہے جو آپ کی رہنمائی کرے گی اور آپ کو اپنی زندگی ضائع کرنے اور فیصلہ کن غلطیاں کرنے سے روکے گی۔

دنیا روحانی علم سے دوبارہ جڑنے کے لیے بہترین جگہ ہے، کیونکہ یہاں ضرورت بے پناہ ہے۔ روحانی علم کے بغیر آپ گم ہیں، اور آپ کی رہنمائی کے لیے صرف آپ کی خواہشیں اور آپ کے خوف ہیں۔

آپ کا مذہبی ہونا ضروری نہیں۔ اپنے اندر روحانی علم کی قوت اور موجودگی کی طرف لوٹنے کے لیے آپ کا کسی مذہبی گروہ سے تعلق رکھنا یا کسی مذہبی تعلیم پر عمل کرنا ضروری نہیں۔ وہ کسی بھی دنیا میں، کسی بھی قوم میں، کسی بھی ثقافت میں، کسی بھی حالت میں، مذہبی روایت کے اندر بھی آپ کی خدمت کرے گا اور اُس سے باہر بھی۔

مگر یہاں اِتنے سارے لوگ خود اپنے لیے اجنبی ہیں۔ روحانی علم سے دوبارہ شناسائی اور دوبارہ اتحاد ہی وہ چیز ہے جو زندگی میں آپ کی سب سے بنیادی ضرورت کی نمائندگی کرتی ہے۔ خوراک، پناہ اور بقا کی بنیادی ضرورتوں کے حصول سے آگے، یہی آپ کی سب سے بنیادی کوشش ہے۔

روحانی علم کی جانب قدم اٹھانا، روحانی علم کا طالبِ علم بننا، روحانی علم کی راہ سیکھنا — یہ ایک عظیم تر زندگی کی راہ سیکھنا ہے۔ آپ کو اِس کی ہر روز ضرورت ہے، اپنے ہر ایک فیصلے میں۔ آپ کو اِس کی ضرورت ہے تاکہ آپ اُس دوزخ سے نکل سکیں جو آپ نے اپنے لیے بنا رکھی ہے — بے یقینی کی دوزخ سے، خود مذمت کی دوزخ سے، عدم تحفظ کی دوزخ سے، بے چینی کی دوزخ سے، خوف کی دوزخ سے، اور اپنی اور دوسروں کی مذمت کی دوزخ سے۔

جب آپ جان لیں گے کہ یہی دوزخ ہے، اور یہ کہ یہ محض آپ کی معمول کی حالت نہیں، تو آپ روحانی علم کے آثار زیادہ گہرائی سے تلاش کرنے لگیں گے۔ جب آپ جان لیں گے کہ آپ کتنی تکلیف اٹھا رہے ہیں، کتنا کھو رہے ہیں اور کتنی غلطیاں کر رہے ہیں، تو آپ اپنے اندر اور دوسروں کے اندر یقین کا سرچشمہ تلاش کرنا چاہیں گے۔ آپ چاہیں گے کہ یہی یقین آپ کے فیصلوں کی بنیاد ہو اور کسی بھی رشتے کی بنیاد ہو جو آپ کسی دوسرے شخص سے قائم کریں۔

خدا نے آپ کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ آپ مخصوص حالات میں مخصوص لوگوں کے ساتھ منفرد عطیے پیش کریں۔ آپ کو یہ لوگ ڈھونڈنے ہیں، اور آپ کو یہ حالات ڈھونڈنے ہیں۔ آپ یہاں ایک بے تابی محسوس کریں گے۔ چاہے آپ اِن گہری ضرورتوں کو غلط سمجھ لیں، وہ آپ کے اندر موجود رہیں گی۔ وہ آپ کو آگے لے جاتی رہیں گی۔

اِس دوران آپ لوگوں سے شادی کرتے ہیں، جگہوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں، اپنی زندگی کچھ چیزوں کو دے دیتے ہیں۔ مگر یہ گہری ضرورتیں باقی رہتی ہیں، اور جب تک وہ پوری نہ ہوں، آپ بے قرار رہیں گے، آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی زندگی کو آگے بڑھنا چاہیے، آپ اُس پر مطمئن نہیں ہوں گے جو آپ کے پاس ہے۔ کیونکہ یہ روح کی گہری ضرورتوں کی نمائندگی کرتی ہیں، آپ کے اندر کی سب سے بنیادی ضرورتوں کی۔

روح کی ضرورتیں صرف اِسی صورت پوری ہو سکتی ہیں کہ آپ یہاں اپنا عظیم تر مقصد دریافت کریں اور پورا کریں۔ چونکہ آپ کی عقل یہ معلوم نہیں کر سکتی، اِس لیے آپ کو روحانی علم کی رہنمائی کی پیروی کرنی ہوگی۔ اور آپ کو اپنی زندگی میں روحانی علم کی قوت اور موجودگی کے بارے میں سیکھنا ہوگا۔

یہ درحقیقت بہت سادہ ہے، مگر یہ سادہ نہیں لگے گا کیونکہ آپ کا ذہن الجھا ہوا ہوگا۔ چونکہ روحانی علم پُراسرار ہے، اِس لیے وہ آپ کے خیالات میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ آپ اُسے قابو نہیں کر سکتے؛ آپ اُس کی تعریف نہیں کر سکتے؛ آپ اُسے الفاظ میں اپنے دوستوں کے سامنے بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ روحانی علم دیکھنے، جاننے اور عمل کرنے کا ایک گہرا تجربہ ہے۔ ابتدا میں وہ نایاب اور الجھا دینے والا لگے گا، مگر وقت کے ساتھ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے لیے یہی سب سے فطری کام ہے۔

یہ دنیا میں آپ کا سفر ہے۔ یہ ایسا سفر ہے جو اِس دنیا سے آگے بھی جاری رہے گا۔ یہ ایسا سفر ہے جس کی تعریف آپ صرف خیالات سے نہیں کر سکتے۔ روحانی علم آپ کو اِس سفر پر لے جائے گا، اور وہ آپ کی زندگی کو معنی، مقصد اور سمت دے گا۔

آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی کی ایک گہری رو ہے۔ آپ کے تمام خیالات اور دن کے واقعات سے پرے، آپ کی زندگی میں ایک گہری رو بہہ رہی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آگے بڑھتے ہوئے آپ کو طاقت، مقصد اور دانش دے گی۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ جو ہیں وہ آپ کا ذہن نہیں، آپ کے خیالات نہیں، آپ کے عقائد نہیں، اور یہ کہ آپ کا حقیقی وجود اُن سے پرے ہے — اِن چیزوں سے پرے — اور یہ کہ خدا اِن چیزوں سے پرے ہے۔ ایک خیال کسی حقیقی رشتے کا بدل نہیں ہو سکتا۔ اور حقیقی رشتے آپ کے خیالات سے ماورا ہوتے ہیں۔ خدا سے آپ کا حقیقی رشتہ آپ کے خیالات سے، یا آپ کی ثقافت یا آپ کے مذہب کے خیالات سے، ماورا ہے۔

وقت کے ساتھ آپ اپنی وفاداری روحانی علم کی قوت کی طرف منتقل کر دیں گے۔ یہ اپنی وفاداری خدا کی طرف منتقل کرنا ہے۔ یہ آپ کی ہستی کی بالکل بنیاد پر جدائی کو کھول دینا ہے۔

یہاں آپ ذہن کے محکوم ہونے کے بجائے ذہن کو استعمال کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہاں آپ خیالات اور تعریفوں کے محکوم ہونے کے بجائے اُنہیں استعمال کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہاں آپ اپنی عقل اور اپنے جسم کی حیرت انگیز صلاحیتوں کے غلام ہونے کے بجائے اُنہیں استعمال کرنے کے قابل ہوں گے۔

یہ آزادی کی ایک عملی صورت ہے، اور یہ آپ کو آپ کی سب سے بنیادی فطرت کی طرف لوٹا دے گی، اور اُس عظیم تر مقصد کی طرف جو آپ کو یہاں، اِس دنیا میں، اِس وقت لایا ہے۔